تحت
معنی
١ - نیچے، نچلا، فوق کی ضد۔ محبت ہی ہے تحت سے تابہ فوق زمیں آسماں سب ہیں لبریز شوق ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٩١٢ ) ٢ - قبضہ، اختیار، قابو، تصرف۔ "تقریباً سارا ہندوستان ایک ہی حکومت کے تحت آگیا۔" ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ١٧:٣ ) ٣ - دائرے میں، ذیل میں، زیراثر۔ "اسی تحت میں حکیم غلام محمد خان کے ذکر سے معلوم ہو گا۔" ( ١٩٣٧ء، قدیم ہنر و ہنرمندان اودھ، ٩٧ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق ہے ثلاثی مجرد کے باب سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے اردو میں سب سے پہلے ١٦٥٧ء کو "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - قبضہ، اختیار، قابو، تصرف۔ "تقریباً سارا ہندوستان ایک ہی حکومت کے تحت آگیا۔" ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ١٧:٣ ) ٣ - دائرے میں، ذیل میں، زیراثر۔ "اسی تحت میں حکیم غلام محمد خان کے ذکر سے معلوم ہو گا۔" ( ١٩٣٧ء، قدیم ہنر و ہنرمندان اودھ، ٩٧ )