تحذیر
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - خطرے سے آگاہی تنبیہ، دھمکی، (مجازاً) پوشیدگی، پردہ خوف دلانا، ڈرانا۔ آپ ہیرے کی زمرد کی ہے رنگت اس کی اس سے سب ڈرتے ہیں عادت میں اس کی تحذیر ( ١٩٠٥ء، گفتار بے خود، ٣٣٣ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے ١٨٤٥ء میں "احوال الانبیا" میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: حذر
جنس: مؤنث