تحزین
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - غمگین یا رنجیدہ آواز سے پڑھائی (بالخصوص قرآن پاک کی)۔ "حروف و کلمات کی تلاوت کو تغریب، ترعید، تحزین. جیسے عیوب سے پاک رکھیں۔" ( ١٩٧٤ء، علم تجوید و قرات۔ ١٥ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٧٤ء میں "علم تجوید و قرات" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - غمگین یا رنجیدہ آواز سے پڑھائی (بالخصوص قرآن پاک کی)۔ "حروف و کلمات کی تلاوت کو تغریب، ترعید، تحزین. جیسے عیوب سے پاک رکھیں۔" ( ١٩٧٤ء، علم تجوید و قرات۔ ١٥ )
اصل لفظ: حزن
جنس: مؤنث