تحسر

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - (کسی بات پر) افسوس، حسرت یا غم کھانے کی کیفیت۔ "اس پر ابوذر نے بطریق تحسر کہا اے کاش میں کوئی ایسا درخت ہوتا جو (بیخ و بن سے) اکھاڑ کر پھینک دیا۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٣: )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٥٥ء میں "غزوات حیدری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (کسی بات پر) افسوس، حسرت یا غم کھانے کی کیفیت۔ "اس پر ابوذر نے بطریق تحسر کہا اے کاش میں کوئی ایسا درخت ہوتا جو (بیخ و بن سے) اکھاڑ کر پھینک دیا۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٣: )

اصل لفظ: حسر
جنس: مذکر