تحشم

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - جاہ و حشم، رعب و دبدبہ، شان و شوکت۔ "امیروں کا یہ وتیرہ ہو کہ امارت کو مقصود بالذات جانیں اور مخزن ہر فضل و کمال تصور کریں، تحشم کو عزت سمجھیں۔"      ( ١٩٢٠ء، رسائل عمادالملک، ٧٧ ) ٢ - شرمانا، لجانا، شرمندہ ہونا، جلسہ جلوس، لاؤلشکر۔ (اسٹین گاس)

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٥٨ء میں "اسباب بغاوت بند" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جاہ و حشم، رعب و دبدبہ، شان و شوکت۔ "امیروں کا یہ وتیرہ ہو کہ امارت کو مقصود بالذات جانیں اور مخزن ہر فضل و کمال تصور کریں، تحشم کو عزت سمجھیں۔"      ( ١٩٢٠ء، رسائل عمادالملک، ٧٧ )

اصل لفظ: حشم
جنس: مذکر