تحقیر

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - ذلت، حقارت، حقیر جاننے کا عمل یا فعل، بے قدری، بے حرمتی۔ 'بائیسکوپ کے تماشے ہوں گے اور ان میں تمھاری تحقیر و تضحیک کی جائے گی۔"      ( ١٩١٦ء، سی پارۂ دل، ١٩٤ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے ثلاثی مزید فیہ کے باب تفعیل سے مصدر ہے اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں ١٨٤٥ء کو 'احوال الانبیا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ذلت، حقارت، حقیر جاننے کا عمل یا فعل، بے قدری، بے حرمتی۔ 'بائیسکوپ کے تماشے ہوں گے اور ان میں تمھاری تحقیر و تضحیک کی جائے گی۔"      ( ١٩١٦ء، سی پارۂ دل، ١٩٤ )

اصل لفظ: حقر
جنس: مؤنث