تحمیق
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - کسی کو احمق ٹھہرانا، بے وقوف بنانے کا عمل۔ "ہمارے مذہب کی توہین بزرگوں کو تحمیق کرتا پھرتا ہے۔" ( ١٩٠٧ء، امہات الامہ، ٢٩ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم استعمل ہے۔ ١٧٨٠ء میں "کلیات سودا" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کسی کو احمق ٹھہرانا، بے وقوف بنانے کا عمل۔ "ہمارے مذہب کی توہین بزرگوں کو تحمیق کرتا پھرتا ہے۔" ( ١٩٠٧ء، امہات الامہ، ٢٩ )
اصل لفظ: حمق
جنس: مؤنث