تحیر

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - حیرت، تعجب، اچنبھا۔ 'ایسا تاریکی کا پردہ پڑا ہوا ہے جس کو تحیر اٹھانا چاہتا ہے۔"      ( ١٩٠١ء، جنگل میں منگل، ٥ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے ثلاثی مزید فیہ کے باب تفعل سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧١٨ء کو 'دیوانِ آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - حیرت، تعجب، اچنبھا۔ 'ایسا تاریکی کا پردہ پڑا ہوا ہے جس کو تحیر اٹھانا چاہتا ہے۔"      ( ١٩٠١ء، جنگل میں منگل، ٥ )

اصل لفظ: حیر
جنس: مذکر