تخاطب

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - باہم باتیں کرنا، ایک دوسرے سے گفتگو کرنا، مخاطب ہونا۔ 'زمان و مکاں، سفر و اقامت، رویت و سماعت، تخاطب و کلام کی تمام طبعی پابندیاں اٹھا دی جائیں۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٣٦٦:٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب تفاعل سے مصدر ہے اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ ١٩٢٣ء کو 'سیرۃ النبیۖ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - باہم باتیں کرنا، ایک دوسرے سے گفتگو کرنا، مخاطب ہونا۔ 'زمان و مکاں، سفر و اقامت، رویت و سماعت، تخاطب و کلام کی تمام طبعی پابندیاں اٹھا دی جائیں۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٣٦٦:٣ )

اصل لفظ: خطب
جنس: مذکر