تخالف

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - اختلاف، تضاد، مخالفت۔ "جس طریق پر عمارت کے خطوط ترکیبی سے تعارض و تخالف ہوئے بغیر، ان سے پوری تعمیر میں جان ڈالی اور تنوع پیدا کیا۔"      ( ١٩٣٢ء، اسلامی فن تعمیر، ٣٩ ) ٢ - مخالفت۔  ہے قافیے کے باب میں کہنی یہی اک بات وہ قاعدہ کیا جس کا تخالف میں ہو اثبات      ( ١٩٣٦ء، جگ بیتی، ٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٨٤ء میں "دیوان مرزا انس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اختلاف، تضاد، مخالفت۔ "جس طریق پر عمارت کے خطوط ترکیبی سے تعارض و تخالف ہوئے بغیر، ان سے پوری تعمیر میں جان ڈالی اور تنوع پیدا کیا۔"      ( ١٩٣٢ء، اسلامی فن تعمیر، ٣٩ )

اصل لفظ: خلف
جنس: مذکر