تخبط

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - آسیبی دیوانگی، خبط، اٹکل سے بے راہ چلنا۔ "کوئی آپ کو مجنوں کہتا کوئی تخبط پر محمول کرتا۔"      ( ١٨٩٠ء، تذکرہ الکرام، ٢٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٩٠ء میں "تذکرۃ الکرام" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آسیبی دیوانگی، خبط، اٹکل سے بے راہ چلنا۔ "کوئی آپ کو مجنوں کہتا کوئی تخبط پر محمول کرتا۔"      ( ١٨٩٠ء، تذکرہ الکرام، ٢٠ )

اصل لفظ: خبط
جنس: مذکر