تخشع
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - انکسار، عجز و الحاح، عاجزی کرنا، فروتنی۔ "ان کو بتضرع و تخشع وسیلہ گردان کو. مستات کرتے۔" ( ١٨٥١ء، عجائب القصص، ترجمہ، ٣٤:٤ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٥١ء میں "عجائب القصص، ترجمہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - انکسار، عجز و الحاح، عاجزی کرنا، فروتنی۔ "ان کو بتضرع و تخشع وسیلہ گردان کو. مستات کرتے۔" ( ١٨٥١ء، عجائب القصص، ترجمہ، ٣٤:٤ )
اصل لفظ: خشع
جنس: مذکر