تخطیہ
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - غلط قرار دینا، غلطی نکالنا۔ "یہ ممکن نہ تھا کہ لوگ دو حکومتوں کے ماتحت رہ سکیں جن میں سے دونوں ایک دوسرے کا تخطیہ کرتی ہوں۔" ( ١٩١٠ء، معرکۂ مذہب و سائنس، ٤٥٣ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٦٩ء میں "خطوط غالب" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - غلط قرار دینا، غلطی نکالنا۔ "یہ ممکن نہ تھا کہ لوگ دو حکومتوں کے ماتحت رہ سکیں جن میں سے دونوں ایک دوسرے کا تخطیہ کرتی ہوں۔" ( ١٩١٠ء، معرکۂ مذہب و سائنس، ٤٥٣ )
اصل لفظ: خطی
جنس: مذکر