تخلیف

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - اختلاف، مخالفت۔ "مسلمان عورتوں نے بھی اس کی تخلیف کی۔"      ( ١٩٢٩ء، تاریخ، ہفتہ وار آگرہ، تاریخ نثر اردو، ٤٥٤:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٢٩ء میں "تاریخ، ہفتہ وار آگرہ تاریخ نثر اردو" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اختلاف، مخالفت۔ "مسلمان عورتوں نے بھی اس کی تخلیف کی۔"      ( ١٩٢٩ء، تاریخ، ہفتہ وار آگرہ، تاریخ نثر اردو، ٤٥٤:١ )

اصل لفظ: خلف
جنس: مؤنث