تخلیق
معنی
١ - پیدائش، آفرینش، پیدا کرنا، وجود میں لانا۔ "جذبات انسانی کی تخلیق یا بیداری کے کئی ذرائع ہیں۔" ( ١٩٣٠ء، اقبال نامہ، ٣٧١:٢ ) ٢ - تصنیف، اختراع، ایجاد۔ "ایسی کوئی تصنیفی سند فراہم نہیں کی جس سے یہ ثابت ہوتا کہ امیر خسرو کی تخلیق ہے۔" ( ١٩٦٥ء، ہماری پہیلیاں، ٦٥ ) ٣ - مخلوق، وجود۔ "کپڑے قدرت کی ایسی تخلیق ہیں جو انسان کے لئے مفید بھی ہیں۔" ( ١٩٦٤ء، حشرات الارض اور وھیل، ١٨ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزیدفیہ کے باب تفعیل سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں ١٩٣٠ء کو "اقبال نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - پیدائش، آفرینش، پیدا کرنا، وجود میں لانا۔ "جذبات انسانی کی تخلیق یا بیداری کے کئی ذرائع ہیں۔" ( ١٩٣٠ء، اقبال نامہ، ٣٧١:٢ ) ٢ - تصنیف، اختراع، ایجاد۔ "ایسی کوئی تصنیفی سند فراہم نہیں کی جس سے یہ ثابت ہوتا کہ امیر خسرو کی تخلیق ہے۔" ( ١٩٦٥ء، ہماری پہیلیاں، ٦٥ ) ٣ - مخلوق، وجود۔ "کپڑے قدرت کی ایسی تخلیق ہیں جو انسان کے لئے مفید بھی ہیں۔" ( ١٩٦٤ء، حشرات الارض اور وھیل، ١٨ )