تخویف

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - خوف زدہ کرنا، دھمکی، ڈرانا، خوف دلانا۔ "شریعت کے بہت سے احکام صرف تہدید اور تخویف کے لیے ہیں۔"      ( ١٩٠٦ء، انحقوق و الفرائض، ١٧٤:٣ ) ٢ - اندیشہ، خطرہ، ڈر۔ "سب سے زیادہ اس کتاب کے توقف اشاعت کی تخویف نے بالقصد بھلا دیا۔"      ( ١٩٢٩ء، تاریخ نثر اردو، ٣٥٩:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے ١٨٩١ء میں "بوستان خیال" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خوف زدہ کرنا، دھمکی، ڈرانا، خوف دلانا۔ "شریعت کے بہت سے احکام صرف تہدید اور تخویف کے لیے ہیں۔"      ( ١٩٠٦ء، انحقوق و الفرائض، ١٧٤:٣ ) ٢ - اندیشہ، خطرہ، ڈر۔ "سب سے زیادہ اس کتاب کے توقف اشاعت کی تخویف نے بالقصد بھلا دیا۔"      ( ١٩٢٩ء، تاریخ نثر اردو، ٣٥٩:١ )

اصل لفظ: خوف
جنس: مؤنث