تداول

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - رواج، دست بدست پھرنا، انقلاب، گردش۔ "بطور نتیجہ یوں کہو کہ جس ملک میں یہ حقوق نہیں ہیں وہاں کسی معیار قدر کے تداول کی ضرورت نہیں رہی۔"      ( ١٩٠١ء، علم الاقتصاد، ١٠٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'تداول' اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٩٧ء میں "تاریخ ہندوستان" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - رواج، دست بدست پھرنا، انقلاب، گردش۔ "بطور نتیجہ یوں کہو کہ جس ملک میں یہ حقوق نہیں ہیں وہاں کسی معیار قدر کے تداول کی ضرورت نہیں رہی۔"      ( ١٩٠١ء، علم الاقتصاد، ١٠٧ )

جنس: مذکر