تدرج

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - آہستگی، درجہ بدرجہ ہونا۔ "ثوابت کے اس اختلال کا انحصار کچھ تو حرکت نور کے تدرج یا تسلسل پر ہوتا ہے اور کچھ زمین کی گردش پر۔"      ( ١٩١٠ء، معرکہ مذہب و سائنس، ٣٣٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩١٠ء، میں "معرکہ مذہب و سائنس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آہستگی، درجہ بدرجہ ہونا۔ "ثوابت کے اس اختلال کا انحصار کچھ تو حرکت نور کے تدرج یا تسلسل پر ہوتا ہے اور کچھ زمین کی گردش پر۔"      ( ١٩١٠ء، معرکہ مذہب و سائنس، ٣٣٩ )

اصل لفظ: درج
جنس: مذکر