تدلل

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - دلیل تلاش کرنا۔ "جبکہ وہ بصیرت الٰہی میرے دل کے اندر موجود ہے جس میں کبھی تدلل و تذبذب نہیں۔"      ( ١٩٦٩ء، فن ادارت، ٤٨ ) ٢ - باہم ناز کرنا (فرہنگ عامرہ)۔

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٦٩ء میں "فن ادارت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دلیل تلاش کرنا۔ "جبکہ وہ بصیرت الٰہی میرے دل کے اندر موجود ہے جس میں کبھی تدلل و تذبذب نہیں۔"      ( ١٩٦٩ء، فن ادارت، ٤٨ )

اصل لفظ: دلل
جنس: مذکر