تدمغ
معنی
١ - بدمزاجی، تلخ مزاجی، دماغ چڑھا ہونا، غرور۔ "اس نسل کا مزاج وہ تدمغ لیے ہوئے ہے جو غالب کے بلند آہنگ کلام میں پایا جاتا ہے، یہ تدمغ نیاز فتح پوری میں بھی ہے اور ابوالکلام آزاد میں بھی۔" ( ١٩٧١ء، غالب کون، ١٥٣ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٧١ء میں "غالب کون" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بدمزاجی، تلخ مزاجی، دماغ چڑھا ہونا، غرور۔ "اس نسل کا مزاج وہ تدمغ لیے ہوئے ہے جو غالب کے بلند آہنگ کلام میں پایا جاتا ہے، یہ تدمغ نیاز فتح پوری میں بھی ہے اور ابوالکلام آزاد میں بھی۔" ( ١٩٧١ء، غالب کون، ١٥٣ )