تذلذل

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ڈھیلا پن، اضطراب، ہچکچاہٹ، تذبذب۔ "اس وقت تک کہ قدرتی مجبوریوں یا افعال جبریہ کی جہت سے اس ارادے میں کوئی خرابی اور تذلذل واقعہ نہ ہو۔"      ( ١٨٠٩ء، اساس الاخلاق، ٢٩٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٠٩ء میں "اساس الاخلاق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ڈھیلا پن، اضطراب، ہچکچاہٹ، تذبذب۔ "اس وقت تک کہ قدرتی مجبوریوں یا افعال جبریہ کی جہت سے اس ارادے میں کوئی خرابی اور تذلذل واقعہ نہ ہو۔"      ( ١٨٠٩ء، اساس الاخلاق، ٢٩٩ )

اصل لفظ: ذلذ
جنس: مذکر