تذلیل

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - رسوائی، ذلت، تحقیر، خوار کرنا۔ "مجھے یہ یقین کرتے ہوئے اپنی تذلیل نظر نہیں آتی۔"      ( ١٩٤٧ء، حرف آشنا، ٢٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٣٨ء میں "بستان حکمت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - رسوائی، ذلت، تحقیر، خوار کرنا۔ "مجھے یہ یقین کرتے ہوئے اپنی تذلیل نظر نہیں آتی۔"      ( ١٩٤٧ء، حرف آشنا، ٢٢ )

اصل لفظ: ذلل
جنس: مؤنث