تذمیم
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - مذمت، برا ٹھہرانا، برائی کرنا۔ "اس وقت کوئی ایسی کیفیت ہم میں پیدا ہوتی ہے جو ان جذبات کی تذمیم کرتی ہو۔" ( ١٩٠٨ء، اساس الاخلاق، ٥٢٨ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٥١ء میں "ترجمہ عجائب القصص" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - مذمت، برا ٹھہرانا، برائی کرنا۔ "اس وقت کوئی ایسی کیفیت ہم میں پیدا ہوتی ہے جو ان جذبات کی تذمیم کرتی ہو۔" ( ١٩٠٨ء، اساس الاخلاق، ٥٢٨ )
اصل لفظ: ذمم
جنس: مؤنث