تذکیر

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - وعظ و نصیحت، مجلس و عظ۔ "وعظ و تذکیر اور قصہ خوانی کو اپنا مایۂ ناز سرمایۂ حیات سمجھتے تھے۔"      ( ١٩٦١ء، سوانح خواجہ معین الدین، ٢٦٥ ) ٢ - مذکر قرار پانا یا دینا۔ رجولیت، تانیث کی ضد۔ "جو لوگ تذکیرو تانیث اور دلی لکھنؤ کی زبان کے متعلق . جھگڑوں میں پڑے ہوئے ہیں وہ بڑی غلطی پر ہیں۔"      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٧٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے ثلاثی مزیدفیہ کے باب تفعیل سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔

مثالیں

١ - وعظ و نصیحت، مجلس و عظ۔ "وعظ و تذکیر اور قصہ خوانی کو اپنا مایۂ ناز سرمایۂ حیات سمجھتے تھے۔"      ( ١٩٦١ء، سوانح خواجہ معین الدین، ٢٦٥ ) ٢ - مذکر قرار پانا یا دینا۔ رجولیت، تانیث کی ضد۔ "جو لوگ تذکیرو تانیث اور دلی لکھنؤ کی زبان کے متعلق . جھگڑوں میں پڑے ہوئے ہیں وہ بڑی غلطی پر ہیں۔"      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٧٨ )

اصل لفظ: ذکر
جنس: مؤنث