تراخی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ڈھیل، سستی، ڈھیل دینا، کاہلی، تقصیر۔ "بالعموم اس کارخیر میں تراحی اور امہال درحقیقت عورت اور مرد دونوں کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔"      ( ١٩٢٣ء، عصائے پیری، ١٠١ ) ٢ - دیر، تاخیر۔ "ثم، ترتیب ذکری کے لیے ہے تراخی کے لیے نہیں۔"      ( ١٩٦٤ء، کمالین، ٢٨:٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٠٦ء میں "نور الہدایہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ڈھیل، سستی، ڈھیل دینا، کاہلی، تقصیر۔ "بالعموم اس کارخیر میں تراحی اور امہال درحقیقت عورت اور مرد دونوں کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔"      ( ١٩٢٣ء، عصائے پیری، ١٠١ ) ٢ - دیر، تاخیر۔ "ثم، ترتیب ذکری کے لیے ہے تراخی کے لیے نہیں۔"      ( ١٩٦٤ء، کمالین، ٢٨:٣ )

اصل لفظ: رخی
جنس: مذکر