ترازو
معنی
١ - وزن کرنے کا آلہ جس کو کانٹا بھی کہتے ہیں، میزان، تک، تکھڑی۔ "یہ فن مختلف اوزان شعر کے لیے ترازو ہے۔" ( ١٩٢٠ء، مکتوبات شاد عظیم آبادی، ٤٦ ) ٢ - برج میزان، تلاراس جو شکل میں ترازو کی طرح بنائی ہے۔ " میزان مرکب آٹھ ستاروں سے بصورت ترازو ہے۔" ( ١٨٤٥ء، احوال الانبیا، ٣٤:١ )
اشتقاق
فارسی سے اسم جامد ہے۔ اردو میں اصل حالت و معنی کے ساتھ داخل ہوا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٠٣ء کو "نوسرہار" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - وزن کرنے کا آلہ جس کو کانٹا بھی کہتے ہیں، میزان، تک، تکھڑی۔ "یہ فن مختلف اوزان شعر کے لیے ترازو ہے۔" ( ١٩٢٠ء، مکتوبات شاد عظیم آبادی، ٤٦ ) ٢ - برج میزان، تلاراس جو شکل میں ترازو کی طرح بنائی ہے۔ " میزان مرکب آٹھ ستاروں سے بصورت ترازو ہے۔" ( ١٨٤٥ء، احوال الانبیا، ٣٤:١ )