تراشا

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - بنایا ہوا، گھڑا ہوا۔  گل کیوڑا کہتا ہے کہ کیا تجھ کو تراشا ہے اور کیتکی کہتی ہے صندل کا تراشا ہے      ( ١٨٣٠ء، کلیات نظیر، ٢٣٨:٢ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ متعلق فعل 'تراشنا' سے 'تراشا' صفت ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨٣٠ء میں "کلیات نظیر" میں مستعمل ملتا ہے۔