تراشہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - چھیلن، کترن جو کسی چیز کی تراشنے سے نکلے جیسے تراشۂ قلم، تراشہ چوب۔ "شیکسپیئر. کی دوات اور قلم اور اس کے قلم کے تراشے تک یادگار کے طور پر محفوظ و موجود ہیں۔"      ( ١٩٧٤ء، سائل اقبال، ١٤ ) ٢ - اخبار یا رسالے وغیرہ سے کوئی تراشا ہوا حصہ، کٹنگ۔ "آپ کا عنایت نامہ جس میں ڈیلی ایکسپریس کے تراشے ملفوف تھے کل شام ملا۔"      ( ١٩٣٣ء، اقبال نامہ، ٢٨٦:٢ )

اشتقاق

فارسی مصدر 'تراشیدن' سے مشتق حاصل مصدر 'تراش' کے ساتھ 'ہ' بطور لاحقہ سمیت لگنے سے تراشہ بنا۔ ١٩٣٣ء میں "اقبال نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - چھیلن، کترن جو کسی چیز کی تراشنے سے نکلے جیسے تراشۂ قلم، تراشہ چوب۔ "شیکسپیئر. کی دوات اور قلم اور اس کے قلم کے تراشے تک یادگار کے طور پر محفوظ و موجود ہیں۔"      ( ١٩٧٤ء، سائل اقبال، ١٤ ) ٢ - اخبار یا رسالے وغیرہ سے کوئی تراشا ہوا حصہ، کٹنگ۔ "آپ کا عنایت نامہ جس میں ڈیلی ایکسپریس کے تراشے ملفوف تھے کل شام ملا۔"      ( ١٩٣٣ء، اقبال نامہ، ٢٨٦:٢ )

جنس: مذکر