تراوش
معنی
١ - ٹپکنا، ٹپکاؤ، تقاطر، رسنا۔ "ہوا کی مقدار جو کفایت کار میں سے تراوش (رساو) کرتی ہے۔" ( ١٩٤٨ء، حرارتی انجنوں کا نظریہ۔ ٤٢٠ ) ٢ - اشارے کنائے یا انداز سے ظاہر ہونا، ترشح ہونا۔ "نماز کی ایک ایک حرکت. ایک ایک طرز سے اس حقیقت و کیفیت کو تراوش کرنا چاہیے۔" ( ١٩٣٥ء، سیرۃ النبیۖ، ٨٥:٥ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'تراوش' اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧١٨ء میں "قلمی نسخہ دیوان آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ٹپکنا، ٹپکاؤ، تقاطر، رسنا۔ "ہوا کی مقدار جو کفایت کار میں سے تراوش (رساو) کرتی ہے۔" ( ١٩٤٨ء، حرارتی انجنوں کا نظریہ۔ ٤٢٠ ) ٢ - اشارے کنائے یا انداز سے ظاہر ہونا، ترشح ہونا۔ "نماز کی ایک ایک حرکت. ایک ایک طرز سے اس حقیقت و کیفیت کو تراوش کرنا چاہیے۔" ( ١٩٣٥ء، سیرۃ النبیۖ، ٨٥:٥ )