تربت

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - (لفظاً) مٹی، زمین، (مجازاً) قبر، مرقد، مزار، مقبرہ۔  پینے آئی ہے تربت میں مجھے سختی گور لاٹ صاحب کی دہائی وقت ہے امداد کا      ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٥٠ ) ٢ - خاک مزار۔  شہید تن میں مرے روح تازہ بخشی ہے عجب ہے تربت معصوم پنجیں کی باس      ( ١٨٧٦ء، شہید، دیوان، ٨٦ ) ٣ - قبر (ضریع) کی وہ شبیہ جو عاشورۂ محرم کو تعزیوں پر بنائی جاتی ہے۔  تربت کی مومن نے بنائی پئے زاری روضے کی شہ پاک کے تصویر اتاری      ( ١٩١٢ء، شمیم، بیاض (ق)، ١ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم جامد ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٣٨ء کو "چندر بدن و مہیار" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مؤنث