ترجمان

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - مترجم: ترجمہ کرنے والا، ایک زبان کا مطلب دوسری زبان میں بیان کرنے والا۔ "مقدم اطبائے پارس اور سب زبانوں کا ترجمان تھا۔"      ( ١٨٣٨ء، بستان حکمت، ٥ ) ٢ - کسی اور کے مضمون یا مفہوم کی ترجمانی کرنے والا۔ "مضامین تصوف پر گفتگو ہوتی رہی، ڈاکٹر صاحب ترجمان تھے۔"      ( ١٩١٩ء، روزنامچہ حسن نظامی، ١٠ ) ٣ - نمایندگی کرنے والا، نمایندہ، ترجمانی کرنے والا۔ "میں غالب کو اپنے عہد کا ترجمان نہیں تصور کرتا۔"      ( ١٩٢٦ء، اقبال شخصیت اور شاعری، ٢٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزیدفیہ کے باب سے اسم فاعل ہے اردو میں ١٧٩٢ء کو "تحفۃ الاحباب" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مترجم: ترجمہ کرنے والا، ایک زبان کا مطلب دوسری زبان میں بیان کرنے والا۔ "مقدم اطبائے پارس اور سب زبانوں کا ترجمان تھا۔"      ( ١٨٣٨ء، بستان حکمت، ٥ ) ٢ - کسی اور کے مضمون یا مفہوم کی ترجمانی کرنے والا۔ "مضامین تصوف پر گفتگو ہوتی رہی، ڈاکٹر صاحب ترجمان تھے۔"      ( ١٩١٩ء، روزنامچہ حسن نظامی، ١٠ ) ٣ - نمایندگی کرنے والا، نمایندہ، ترجمانی کرنے والا۔ "میں غالب کو اپنے عہد کا ترجمان نہیں تصور کرتا۔"      ( ١٩٢٦ء، اقبال شخصیت اور شاعری، ٢٧ )

اصل لفظ: رجم