ترجیع
معنی
١ - پھیرنا، بازگشت، رجعت۔ "اذان میں ترجیع و تشویب کے قائل ہیں۔" ( ١٩٦٨ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٥٨١:٣ ) ٢ - [ نجوم ] ستاروں کا اپنی حرکت یعنی مضرب سے مشرق کی طرف جانے میں رجعت کرنا (فرہنگ آصفیہ) ٤ - [ لفظا ] لوٹانا، (اصطلاحاً) سرکی ہوئی ہڈی کو اپنی جگہ واپس لانا، اترا ہوا جوڑ بٹھانا۔ "بعض اوقات جوتا اتار کر برہنہ ایڑی بغل میں رکھ کر دبانے اور بازو کو کھینچ کر زور لگانے سے ہڈی کے سر کے ہوئے سرے کو ٹھیک جگہ پر بٹھانے میں کامیابی ہوئی ہے یہ ایک قدیم طریقہ ترجیع ہے۔" ( ١٩٤١ء، جبیریات، ٤٠:٢ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے ١٨٩٥ء میں "مکاتیب امیر مینائی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - پھیرنا، بازگشت، رجعت۔ "اذان میں ترجیع و تشویب کے قائل ہیں۔" ( ١٩٦٨ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٥٨١:٣ ) ٣ - کسی ناگہانی مصیبت پر یا کسی کے انتقال پر قرآن مجید کی آیت، انا اللہ وانّا الیہ راجعون، پڑھنا جسکے معنی ہیں: بیشک ہم اللہ کے ہیں اور بے شک ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔" ٤ - [ لفظا ] لوٹانا، (اصطلاحاً) سرکی ہوئی ہڈی کو اپنی جگہ واپس لانا، اترا ہوا جوڑ بٹھانا۔ "بعض اوقات جوتا اتار کر برہنہ ایڑی بغل میں رکھ کر دبانے اور بازو کو کھینچ کر زور لگانے سے ہڈی کے سر کے ہوئے سرے کو ٹھیک جگہ پر بٹھانے میں کامیابی ہوئی ہے یہ ایک قدیم طریقہ ترجیع ہے۔" ( ١٩٤١ء، جبیریات، ٤٠:٢ )