ترخیص

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - رخصت، اجازت۔  کہا میں نے مطلق نہ غم کھائیے اس وقت ترخیص فرمائیے      ( ١٨٨٠ء، مثنوی طلسم جہاں، ٣٣ ) ٢ - توسیع، کشایش۔ "اختلاف علما کا مسائل فقہ میں سبب ترخیص وتوسعہ امر دین کا ہے۔"      ( ١٨٥١ء، عجائب القصص، ٢٥:٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے ١٨٥١ء میں "عجائب القصص" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - توسیع، کشایش۔ "اختلاف علما کا مسائل فقہ میں سبب ترخیص وتوسعہ امر دین کا ہے۔"      ( ١٨٥١ء، عجائب القصص، ٢٥:٢ )

اصل لفظ: رخص
جنس: مؤنث