تردید

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - رد، توڑ، جواب، کاٹ دینا (بات وغیرہ کا)، منسوخ کرنا۔ "بعض اخباروں نے اس کی تردید بھی چھاپی۔"      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ١٣٦ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے ثلاثی مزیدفیہ کے باب تفصیل سے مصدر ہے اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٨٣ء کو "مکمل مجمعوعہ لیکچرو اسپیچز" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - رد، توڑ، جواب، کاٹ دینا (بات وغیرہ کا)، منسوخ کرنا۔ "بعض اخباروں نے اس کی تردید بھی چھاپی۔"      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ١٣٦ )

اصل لفظ: ردد
جنس: مؤنث