ترسب

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - تہ نشیں ہو جانا، پانی کی تہہ میں چلا جانا۔ "دریا اٹ کو چڑوں کی شکل میں ایک جھیل میں لے جا کر برابر ڈالتا رہتا ہے پس ظاہر ہے کہ اسی طریقہ سے اٹ کا تالابوں میں ترسب ہوتا رہتا ہے۔"      ( ١٩٤٩ء، آبپاشی، ١٥٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٤٩ء میں "آبپاشی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تہ نشیں ہو جانا، پانی کی تہہ میں چلا جانا۔ "دریا اٹ کو چڑوں کی شکل میں ایک جھیل میں لے جا کر برابر ڈالتا رہتا ہے پس ظاہر ہے کہ اسی طریقہ سے اٹ کا تالابوں میں ترسب ہوتا رہتا ہے۔"      ( ١٩٤٩ء، آبپاشی، ١٥٢ )

اصل لفظ: رسب
جنس: مذکر