ترسیل
معنی
١ - بھیجنا؛ ارسال، روانگی، ابلاغ۔ "ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بجلی کی ترسیل اور تقسیم کی سہولتوں کی فراہمی بھی ہے۔" ( ١٩٦٠ء، دوسرا پنج سالہ منصوبہ، ٣٣٦ ) ٢ - [ تجوید ] حرفوں کو ہموار کر کے پڑھنا۔ (نورانی قاعدہ)
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب تفعیل سے مصدر ہے اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٥٨ء کو "قصۂ گوپی چند" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بھیجنا؛ ارسال، روانگی، ابلاغ۔ "ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بجلی کی ترسیل اور تقسیم کی سہولتوں کی فراہمی بھی ہے۔" ( ١٩٦٠ء، دوسرا پنج سالہ منصوبہ، ٣٣٦ )