ترصیص

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - مضبوطی، استواری، ٹھیک کرنا، رنگ کے ساتھ کسی چیز کو جوڑنا اور بند کرنا، ٹانکا لگانے کا عمل۔ "مگر سستی اعتقاد اور ترصیص روابط اتحاد سے غافل تھے۔"      ( ١٨٥٥ء، غزوات حیدری، ١٦٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے ١٨٥٥ء میں "غزوات حیدری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مضبوطی، استواری، ٹھیک کرنا، رنگ کے ساتھ کسی چیز کو جوڑنا اور بند کرنا، ٹانکا لگانے کا عمل۔ "مگر سستی اعتقاد اور ترصیص روابط اتحاد سے غافل تھے۔"      ( ١٨٥٥ء، غزوات حیدری، ١٦٠ )

اصل لفظ: رصص
جنس: مؤنث