ترصیف

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - لوگوں کا باہم صف میں پاس پاس کھڑا ہونا، ترتیب کے ساتھ ملانا۔ "یہ سب عالم مل کے گویا ایک عالم ہو جائے گا جس کی تالیف اور ترصیف محکم ہو گی۔"      ( ١٩٢٥ء، حکمت الاشراق، ٢٨٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٨٧ء میں "نہر المصائب" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - لوگوں کا باہم صف میں پاس پاس کھڑا ہونا، ترتیب کے ساتھ ملانا۔ "یہ سب عالم مل کے گویا ایک عالم ہو جائے گا جس کی تالیف اور ترصیف محکم ہو گی۔"      ( ١٩٢٥ء، حکمت الاشراق، ٢٨٩ )

اصل لفظ: رصف
جنس: مؤنث