ترفیع
معنی
١ - اٹھنا، اٹھانا، بلند کرنا؛ (نفسیات) جذبے یا جبلت کو فروتر سے ہٹا کر برتر موضوع سے وابستہ کرنے کا عمل، تصعید۔ "یہ تخیلی قوت کبھی حسی تجربے کی ترفیع کر کے اس کی حدیں افکا سے ملا دیتی ہے۔" ( ١٩٦٩ء، صحیفہ، لاہور، جنوری، ٣٦٣ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٦٩ء میں "صحیفہ" لاہور، جنوری" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - اٹھنا، اٹھانا، بلند کرنا؛ (نفسیات) جذبے یا جبلت کو فروتر سے ہٹا کر برتر موضوع سے وابستہ کرنے کا عمل، تصعید۔ "یہ تخیلی قوت کبھی حسی تجربے کی ترفیع کر کے اس کی حدیں افکا سے ملا دیتی ہے۔" ( ١٩٦٩ء، صحیفہ، لاہور، جنوری، ٣٦٣ )