ترفیہ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - خوشحالی، آسودگی، آسائش۔ "خیرالدین نے . عامہ رعایا کی ترفیہ میں کمال اہتمام کیا۔"      ( ١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ٤:٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٩٧ء میں "تاریخ ہندوستان" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خوشحالی، آسودگی، آسائش۔ "خیرالدین نے . عامہ رعایا کی ترفیہ میں کمال اہتمام کیا۔"      ( ١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ٤:٤ )

اصل لفظ: رفی
جنس: مؤنث