ترنم

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - گانا، خوش الحانی، غنا، الاپ، لے۔ "بڑی درد انگیز آواز میں دلپندیر ترنم کے ساتھ یہ غزل پڑھی۔"      ( ١٩٢٨ء، آخری شمع، ٨٥ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزیدفیہ کے باب تفعیل سے مصدر ہے اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٦٥ء کو "نسیم دہلوی" کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گانا، خوش الحانی، غنا، الاپ، لے۔ "بڑی درد انگیز آواز میں دلپندیر ترنم کے ساتھ یہ غزل پڑھی۔"      ( ١٩٢٨ء، آخری شمع، ٨٥ )

اصل لفظ: رنم
جنس: مذکر