ترچھا
معنی
١ - ایک قسم کا ریشمی کپڑا جس کا اکثر استر لگایا جاتا ہے۔ (فرہنگ آصفیہ)۔ ٢ - ایک قسم کا کپڑا جس کے پیجامے بنتے ہیں۔ (نوراللغات) ١ - ٹیڑھا، آڑا، کج۔ واہ کیا ترچھے ڈوپٹے کا ہے بانکا انداز ہے زمانے کی اداؤں سے نکیلا انداز ( ١٩١١ء، ظہیر دہلوی، دیوان، ٥٧:٢ ) ٢ - [ مجازا ] ناخوش، غصے میں بھرا ہوا، تند مزاج۔ بات کے ترچھے اور کٹیلے ہیں دل کے لینے کو سب ہٹیلے ہیں ( ١٨٣٠ء، نظیر، کلیات، ٧٨:٢ ) ٣ - [ مجازا ] بانکا، تیکھا۔ "بادشاہ کی لطافت ذوق نے ان پلٹنوں کے نام، بانکا، ترچھا، گھنگھور، اختری اور نادری وغیرہ رکھے۔" ( ١٩٧٥ء، لکھنو کی تہذیبی میراث، ١٠٨ ) ٤ - منحرف، مخالف "شاہ برہما ہماری سرکار سے ترچھا ہونے لگا۔" ( ١٩٢٦ء، نوراللغات )
اشتقاق
سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم صفت ہے۔ سنسکرت میں اس کے مترادف 'تریچ+ک+کہ' استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨١٠ء کو "میر کے کلیات" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٣ - [ مجازا ] بانکا، تیکھا۔ "بادشاہ کی لطافت ذوق نے ان پلٹنوں کے نام، بانکا، ترچھا، گھنگھور، اختری اور نادری وغیرہ رکھے۔" ( ١٩٧٥ء، لکھنو کی تہذیبی میراث، ١٠٨ ) ٤ - منحرف، مخالف "شاہ برہما ہماری سرکار سے ترچھا ہونے لگا۔" ( ١٩٢٦ء، نوراللغات )