ترچھاپن
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - ترچھا ہونے کی حالت و کیفیت؛ بانکپن۔ "ہمیشہ قواعد کے رستے سے ترچھے ہو کر چلتے ہیں وہ ان کا ترچھاپن بھی عجب بانکن دکھاتا ہے۔" ( ١٨٨٠ء، آب حیات، ٣١٣ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ اسم 'ترچھا' کے ساتھ سنسکرت سے ہی اسم 'پن' بطور لاحقہ کیفیت ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٨٨٠ء میں "آب حیات" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ترچھا ہونے کی حالت و کیفیت؛ بانکپن۔ "ہمیشہ قواعد کے رستے سے ترچھے ہو کر چلتے ہیں وہ ان کا ترچھاپن بھی عجب بانکن دکھاتا ہے۔" ( ١٨٨٠ء، آب حیات، ٣١٣ )
جنس: مذکر