ترہات
معنی
١ - بیکار فضول اور بیہودہ باتیں، بے معنی بکواس؛ بذلہ سنجی۔ "مگر میں نے نظم میں بجائے مدح گسترانہ ترہات کے پند سودمند کا ایک باب تشبیب میں داخل کر دیا۔" ( ١٩٣٧ء، نغمہ فردوس، ١٢٥:٢ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٣٨ء میں "بستان حکمت" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بیکار فضول اور بیہودہ باتیں، بے معنی بکواس؛ بذلہ سنجی۔ "مگر میں نے نظم میں بجائے مدح گسترانہ ترہات کے پند سودمند کا ایک باب تشبیب میں داخل کر دیا۔" ( ١٩٣٧ء، نغمہ فردوس، ١٢٥:٢ )