ترہیب

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - تخویف، ڈرانا، ہیبت پیدا کرنا۔ "حاجی صاحب کے سامنے استفتا پیش ہوا کہ ترغیب و ترہیب کے موقع پر آیا موضوع حدیث سے بھی استناد جائز ہے۔"      ( ١٩٤٥ء، حکیم الامت، ٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٥١ء، میں "عجائب القصص" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تخویف، ڈرانا، ہیبت پیدا کرنا۔ "حاجی صاحب کے سامنے استفتا پیش ہوا کہ ترغیب و ترہیب کے موقع پر آیا موضوع حدیث سے بھی استناد جائز ہے۔"      ( ١٩٤٥ء، حکیم الامت، ٩ )

اصل لفظ: رہب
جنس: مؤنث