تزئین

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - آرایش، زینت، آراستگی۔ "اخبار نویس ہر صوبے سے مدعو تھے ان کا کیمپ خاص تھا۔ خیمے بہ کمال تزئین تھے۔"      ( ١٩٣٢ء، ریاض خیر آبادی، نثر ریاض، ٣١ ) ٢ - [ علم تجوید ]  حروف کو ان کی صفات عارضی مثلاً حرکت، سکون .... وقف کا خیال رکھ کر پڑھنا تزئین کہلاتا ہے۔ (علم تجوید و قرات، 15)

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزیدفیہ کے باب تفعیل سے مصدر ہے اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٩٣ء کو "قائم کے دیوان" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آرایش، زینت، آراستگی۔ "اخبار نویس ہر صوبے سے مدعو تھے ان کا کیمپ خاص تھا۔ خیمے بہ کمال تزئین تھے۔"      ( ١٩٣٢ء، ریاض خیر آبادی، نثر ریاض، ٣١ )

اصل لفظ: زین
جنس: مؤنث