تزویج
معنی
١ - جوڑا جوڑا کرنا، بیاہنا، نکاح کرنا؛ نکاح، شادی، بیاہ۔ "زہے نصیب میرے کہ خود شہریار اسلام اپنی دختر نیک کی تزویج کے لیے مجھ جیسے ناکارہ نا اہل کا ماضی الضمیر دریافت فرماتے ہیں۔" ( ١٩٤٠ء، آغا شاعر، لیلئی دمشق، ٤٣ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٩٠ء میں "سیرۃ النعمان" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - جوڑا جوڑا کرنا، بیاہنا، نکاح کرنا؛ نکاح، شادی، بیاہ۔ "زہے نصیب میرے کہ خود شہریار اسلام اپنی دختر نیک کی تزویج کے لیے مجھ جیسے ناکارہ نا اہل کا ماضی الضمیر دریافت فرماتے ہیں۔" ( ١٩٤٠ء، آغا شاعر، لیلئی دمشق، ٤٣ )