تزویر

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - جعل، دھوکہ، فریب، مکر، بناوٹ۔ "کم عمر اور بھولی بھالی لڑکیاں تک ان کے دام تزویر سے محفوظ نہیں رہتیں۔"      ( ١٩٢٣ء، عصائے پیری، ٦٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٩٣ء میں قلمی نسخہ "دیوان قائم" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جعل، دھوکہ، فریب، مکر، بناوٹ۔ "کم عمر اور بھولی بھالی لڑکیاں تک ان کے دام تزویر سے محفوظ نہیں رہتیں۔"      ( ١٩٢٣ء، عصائے پیری، ٦٥ )

اصل لفظ: زور
جنس: مؤنث