تزک

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ترتیب، انتظام، قاعدہ، ضابطہ شکر؛ ضابطہ مجلس۔ "یہاں تک کہ اردشیر کے تزک کو دستور العمل قرار دیا تھا۔"      ( ١٩١٤ء، شبلی، ملاقات، ١٥٧:٦ ) ٢ - روزنامچہ شاہی، بادشاہ وغیرہ کے خود نوشت حالات و واقعات۔ "جہانگیر نے بھی اپنے پردادا کی ریس میں تزک لکھی تھی۔"      ( ١٩٤٤ء، نادرات شاہی، (مقدمہ)، ٤٢ ) ٣ - شان و شوکت، احتشام، تجمل، جلوس۔  نام کے ساتھ آہ بھی ہے نالہ بھی ہے نعرہ بھی ہے اس تزک اس شان سے لب تک وہ نام آیا تو کیا      ( ١٩١٦ء، نغمہ جگر دوز، ٣٤ )

اشتقاق

اصلاً ترکی زبان کا لفظ 'توزک' ہے ترکی سے اردو قاعدے کے مطابق 'تزک' بنا اور اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٠٣ء میں "باغ و بہار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ترتیب، انتظام، قاعدہ، ضابطہ شکر؛ ضابطہ مجلس۔ "یہاں تک کہ اردشیر کے تزک کو دستور العمل قرار دیا تھا۔"      ( ١٩١٤ء، شبلی، ملاقات، ١٥٧:٦ ) ٢ - روزنامچہ شاہی، بادشاہ وغیرہ کے خود نوشت حالات و واقعات۔ "جہانگیر نے بھی اپنے پردادا کی ریس میں تزک لکھی تھی۔"      ( ١٩٤٤ء، نادرات شاہی، (مقدمہ)، ٤٢ )

جنس: مؤنث