تسافل
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - نیچے اترنا، پستی کی طرف جانا، اتار۔ "یعنی سلسلے کا اتار اور اس تنازل و تسافل، کی صورت میں اس میں یہ بات نہیں پائی جاتی۔" ( ١٩٤٠ء، اسفار اربعہ، ١، ٧٤٣:٢ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٤٠ء میں "سفار اربعہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - نیچے اترنا، پستی کی طرف جانا، اتار۔ "یعنی سلسلے کا اتار اور اس تنازل و تسافل، کی صورت میں اس میں یہ بات نہیں پائی جاتی۔" ( ١٩٤٠ء، اسفار اربعہ، ١، ٧٤٣:٢ )
اصل لفظ: سفل
جنس: مذکر